A+ R A-
23 اپریل 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

بین الاقوامی خبریں

بین الاقوامی خبریں (16)

میکسیکو: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکا میں 3 مسلمان طلبا کے قتل پر امریکی صدر براک اوباما کی  جانب سے خاموشی اختیارکرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے اپنا موقف واضح کریں۔

 

میکسیکو میں موجود ترک صدر  نےایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ریاست شمالی کیرولینا میں 3 مسلمان قتل کردیئے گئے لیکن اس کے باوجود امریکی صدر،وزیر خارجہ جان کیری اور نائب صدر جوبائیڈن کی جانب سے کوئ

ی بیان تک سامنے نہیں آیا، سیاست دان اپنے ملک میں ہونے والے واقعات کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس لئے انہیں اپنا موقف واضح کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممبران سے کہیں زیادہ بڑی ہے اگر اس قسم کے واقعات پر خاموش رہا گیا تو دنیا امریکا کی حمایت میں بھی آواز بلند نہیں کرے گی۔

 

واضح رہے کہ 2 روز قبل 23 سالہ ضیا برکت کو ان کی اہلیہ 21 سالہ یسر محمد اوران کی بہن 19 سالہ رزان محمد کے ہمراہ چیپل ہل میں واقع ان کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیاگیا تھا جبکہ مقتولین کے والد کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ میری 2 بیٹیوں اور داماد کو مذہب سے نفرت کی وجہ سے قتل کیا گیا جبکہ امریکی میڈیا نے شہریوں پر بار بار اسلامی دہشت گردی کے لفظ کی یلغار کرکے انہیں مسلمانوں سے خوفزدہ کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شدت پسند عیسائی ہمیں نشانہ بنارہے ہی

ماسکو (نیوز ڈیسک) کیا یہ خلائی مخلوق کا کام ہے، زمین کے اندر کوئی بہت بڑا دھماکہ ہوا ہے یا پھر آسمان سے کوئی شہاب ثاقب گر اہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو زمین کے انتہائی شمال میں واقع بے آب و گیاہ برف کے صحرا سائبیریا میں سینکڑوں فٹ قطر کا سوراخ نمودار ہونے پر پوچھے جارہے ہیں۔ دنیا بھر کے سائنسدان حیران ہیں کہ آخر زمین میں اتنا بڑا سوراخ کیسے ہوگیا، اس کی گہرائی کتنی ہے اور آخر اس کے اندر کیا ہے؟ فضا سے لی گئی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ سائبیریا کے علاقے یمال میں تقریباً 262 فٹ قطر کا خوفناک چوڑائی اور گہرائی والا سوراخ ہوچکا ہے۔ سائبیریا کا علاقہ روس کے شمال میں واقع ہے اور اس علاقے کے انتہائی شمال میں یمال کا علاقہ واقع ہے جو دنیا کی دور افتادہ ترین جگہ سمجھی جاتی ہے اور اسی لئے اسے ”دنیا کا آخری کونہ“ کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ قدرتی گیس کی پیداوار کیلئے بہت مشہور ہے اور یہاں روسی پائپ لائنوں کے علاوہ زندگی کے کوئی آثار نہیں نہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ زمین کے نیچے گیسوں کے جمع ہوجانے کے بعد دھماکہ ہوا ہے تو بعض کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں درجہ حرارت بڑھنے سے یہ سوراخ ہوگیا ہے، ابھی تک کوئی بھی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی ہے اور سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو تحقیقات کیلئے علاقے کی طرف روانہ کردیا گیا ہے۔

جدہ (نیوز ڈیسک) سعودی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن کے رشتے دار جو کہ اس وقت سعودیہ کے دورے پر ہیں اگر چاہیں تو اپنے وزٹ ویزا میں توسیع کرا کر پورا سال سعودی عرب میں قیام کر سکتے ہیں۔

 

یہ حکم نامہ ملک میں مقیم غیر ملکیوں کی جانب سے درخواستیں موصول ہونے کے بعد سعودی وزیر داخلہ محمد بن نائف نے چاند رات کے موقع پر جاری کیا۔ اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ 28 جون کے بعد ویزوں کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس نے واضح کیا کہ جن غیر ملکیوں کے ویزے ختم ہونے والے ہیں، ان کیلئے لازم ہے کہ وہ توسیع کی درخواست پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرائیں۔ ایسا نہ کرنا ویزا قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)خود کش حملہ آور سعودی عرب بھی پہنچ گئے ہیں تاہم دونوں حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے جنوبی شہر شرورہ میں سیکیورٹی فورسز نے خود کش حملہ آور کو گھیرے میں لے لیا اور کئی گھنٹوں کے مقابلے کے بعد دونوں حملہ آوروں نے ایک سرکاری عمارت کے باہر اپنے آپ کو اُڑالیا۔

 

سعودی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز القاعدہ کے چھے ارکان نے سعودی باڈر سیکیورٹی فورس پر حملہ کیا جس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے فورسز نے تین دہشت گرد ہلاک کردیئے اور ایک کو گرفتارکرلیا جبکہ فوج کا ڈیوٹی پر موجود انچارج اپنے دو ساتھیوں سمیت جھڑپ میں ماراگیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کا تعلق القاعدہ سے ہے تاہم باقاعدہ اعلان ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد کیاجائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق گرفتار ملزم کا نام وزارت داخلہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ دو حملہ آور شرورہ کی سمت فرار ہو گئے جنہوں نے بعد میں ایک سرکاری عمارت میں پناہ لے لی، سیکیورٹی حکام نے عمارت کا محاصرہ کر لیا، جہاں ہفتے کی صبح دونوں نے خود کو دھماکہ کر کے ہلاک کر لیا۔

بغداد: دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے جنگوؤں کی جانب سے عراق کے شمالی شہر تکریت سے اغوا کی گئی 46 بھارتی نرسوں کو رہا کردیا گیا۔

 

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق عراق اور شام میں اسلامی ریاست کے قیام کے لئے حکومت کے خلاف برسر پیکار دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نے تکریت سے اغوا کی گئی بھارت سے تعلق رکھنے والی 46 نرسوں کو بھارتی حکام کے حوالے کردیا جس کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے تمام نرسوں کو عربیل کے ہوائی اڈے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق داعش جنگوؤں سے رہائی پانے والی نرسیں کل ریاست کیرالہ کے شہر کوچی پہنچیں گی۔

واضح رہے کہ بھارتی نرسیں سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں ایک اسپتال میں کام کررہی تھیں، اس شہر پر بھی گذشتہ ماہ دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا تھا، مغوی نرسوں کا تعلق بھارتی ریاست کیرالہ سے ہے اور انہیں داعش جنگجوؤں کی جانب سے جمعرات کواغواگیا گیاتھا۔

مقبوضہ جموں کشمیر: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ جموں کشمیر کے موقع پر حریت رہنماؤں کی اپیل پر سری نگر سمیت تمام شہروں میں ہڑتال کی گئی جب کہ بھارتی فوج نے کریک ڈاؤن کے دوران حریت رہنماؤں کو نظربند کردیا۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی علی الصبح مقبوضہ کشمیر پہنچے جہاں انہوں نے کٹرہ میں نئی ریلوے لائن کا افتتاح کیا جو ہندوؤں کے مقدس مقام ” ماتا ویشنو دیوی” کو براہِ راست نئی دہلی کے ساتھ ملائے گی، نریندر مودی کے دورہ کے موقع پرسری نگر سمیت مختلف شہروں میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال رہی جبکہ پولیس نے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی اور کریک ڈاؤن کے دوران حریت رہنماؤں کوبھی گھروں میں ہی نذر بند کردیا گیا۔

دوسری جانب حریت رہنما سید علی گیلانی نے حکومت کے ریلوے لائن منصوبے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر چھوڑنے والے مقامی ہندوؤں کی واپسی کیلئے ایک مرتبہ پھر راہ ہموار کی جارہی ہے جبکہ حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق نے ہڑتال کو کشمیری عوام کے جذبات کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے مسئلہ کشمیرحل کرنے میں پہل کریں۔

دمشق: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث تقریبا 66 لاکھ بچوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔

 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے یونیسیف کے ترجمان سائمن انگرام کا کہنا ہے کہ امداد کے منتظر شامی بچوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ تعداد تین گُنا تک پہنچ چکی ہے، جون 2013 میں یہ تعداد 20 لاکھ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو امدادی کاموں کے لیے رواں برس تک درکار 770 ملین امریکی ڈالرز میں سے اب تک محض 37 رقم ہی ملی ہے، اگر مزید امدادی رقم نہ مل سکی تو امدادی کام روکنے پر مجبور ہوں گے جس سے بچوں کے لیے صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔

 

واضح رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد لوگ ہلاک جب کہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب صرف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہا ہے کہ صرف شام میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی ضرورت ہے جس میں سے تقریبا 50 لاکھ بچے شامل ہیں جب کہ بڑی تعداد میں دوسرے ممالک میں پناہ لئے مہاجرین کو بھی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

لندن: پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کو برطانیہ کے علاقے بولٹن میں گرفتار کرلیا گیا۔

 

برطانوی میڈیا کے مطابق عامر خان  مسجد سے گھر جارہے تھے کہ راستے میں نوجوانوں کے ایک گروپ سے ان کا کسی بات پر جھگڑا ہوگیا اور اس دوران انہوں نے 2 نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کردیا۔ مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ نوجوان عامر خان کو جانتے تھے اور لڑائی کے دوران سابق عالمی باکسنگ چیمپئن نے طیش میں آکر 2 نوجوانوں پر تشدد کیا جس سے ایک کے چہرے اور دوسرے کے پاؤں پر زخم آئے جبکہ عامر خان کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے اور واقعے کی انکوائری بھی کی جارہی ہے۔

آذربائیجان مغربی ایشیا اور مغربی یورپ کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے جو اپنی شان دار ثقافت اور پرشکوہ تاریخ کے لیے جانا جاتا ہے۔

 

 

خوب صورت اور تاریخی تفریحی مقامات کی وجہ سے یہ ملک سیاحوں کے لیے بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ اس کے آتش فشاں پہاڑ دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ان ہی میں سے ایک Yanar Dag ہے جس کا مقامی زبان میں مطلب ہے ’’ جلتی چٹانیں ‘‘۔ انھیں ’جلتی چٹانیں‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ حقیقتاً اس پہاڑی کے اطراف ہمہ وقت آگ بھڑکتی رہتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ آگ کب سے لگی ہوئی ہے، اور بہ ظاہر اس کے بجھ جانے کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔

 

Yanar Dag دراصل 116 میٹر اونچی پہاڑی ہے جو Absheron Peninsul کے شمال مشرق میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس پہاڑی کے نیچے قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے۔ ذخیرے میں سے گیس پہاڑی رخنوں سے شعلوں کی صورت میں باہر نکلتی رہتی ہے۔ شعلے دس میٹر تک بلند ہوتے ہیں۔ پہاڑی کے اطراف کی فضا گیس کی بُوکی وجہ سے بوجھل محسوس ہوتی ہے۔

 

دل چسپ بات یہ ہے کہ پہاڑی میں سے پھوٹنے والے چشموں کے پانی میں بھی دیاسلائی دکھانے پر آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ چشموں کے پانی میں سلفر کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے۔ اطراف کے دیہات میں بسنے والے اس پانی سے خوف زدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ پانی طبی خصوصیات سے مالامال ہے۔ چناں چہ وہ گھنٹوں چشموں کے کنارے پر بیٹھے اپنے پاؤں پانی میں ڈبوئے رکھتے ہیں۔ پہاڑی سے 200 میٹر کی دوری پر ایک ’ نیم خوابیدہ ‘ آتش فشاں موجود ہے جس کے دہانے میں سے مٹی اور سلفر کے پانی کا آمیزہ خارج ہوتا ہے۔ مقامی لوگ اس لاوے کو بھی مختلف امراض کے لیے شافی سمجھتے ہیں

 

Yanar Dag سے پھوٹتی آگ کے حوالے سے مقامی سطح پرمختلف داستانیں پائی جاتی ہیں۔ ایک داستان کے مطابق ایک چرواہے نے جلتی ہوئی سگریٹ یہاں پھینک دی تھی جس کے نتیجے میں پہاڑی کے اطراف آگ بھڑک اٹھی جو اب تک روشن ہے۔

چوں کہ یہ آگ سال بھر روشن رہتی ہے اس لیے زرتشت مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اسے مقدس سمجھنا شروع کردیا ہے۔ مقامی آتش پرستوں کے علاوہ بھارت اور ایران سے بھی لوگ اس ’ مقدس ‘ مقام کی زیارت کے لیے آنے لگے ہیں۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بیمار یہاں آکر شفایاب ہوجاتے ہیں جب کہ شرابی اور منشیات کے عادی افراد کے لیے اس مقام کی سیر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آذر بائیجان کی سرزمین میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ مذکورہ پہاڑی بھی ایک ایسا ہی مقام ہے جہاں زیر زمین گیس کا وسیع ذخیرہ ہے، اور یہ ذخیرہ ہی ’ جلتی پہاڑی ‘ کا راز ہے۔

ریاض: سعودی عرب کے ماہرین فلکیات کے مطابق   ریاست میں 27 جون بمطابق 29 شعبان المعظم کو رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں اس لئے پہلا روزہ 29 جون کو ہوگا۔

سعودی عرب میں ر یت ہلال کے ذمہ دار ادارے میں شامل 30 ماہرین فلکیات نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 27 جون کو انسانی آنکھ کے علاوہ دوربین سے بھی رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں، اس لئے سعودی عرب سمیت مشرق وسطٰیٰ میں  28 جون کو شعبان المعظم کی آخری تاریخ ہوگی جب کہ ماہ صیام کا آغاز 29 جون کو ہوگا۔

سعودی ماہرین فلکیات کی اس پیش گوئی کے بعد اس بات کے قومی امکان ہیں کہ پاکستان میں یکم رمضان المبارک 30 جون بروز پیر کو ہوگا۔

صفحہ 1 کا 2

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement