A+ R A-
27 جولائی 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

پشاور(ویب ڈیسک) سروس ٹریبونل خیبر پختونخوا پشاورنے سول سیکر ٹریٹ کے افسران کو عدالتی فیصلے کے مطابق ترقی نہ دینے اور عدالت احکامات کے باوجود جواب نہ دینے پر سیکر ٹری سٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کی تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے جب کہ 23جون کو جواب طلب کر لیا سروس ٹریبونل خیبر پختونخوا نے سیکشن آفیسر اعظم خان کی جانب سے دائر اپیل درخواست کی سماعت کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سول سیکر ٹریٹ کے 40افسران کو 22اگست2001کو سیکش آفیسر گریڈ سترہ میں کرنٹ چارج دے کر تعینات کیا گیا اور 2دسمبر 2003کو 45افسران کو ایکٹنگ چارج میں سیکشن آفیسرز تعینات کیا گیا جن کو بعد ازاں 2005,06,08میں باقاعدہ طور ترقی دے کر ریگولر ترقی میں 87افسران ترقی پاگئے لیکن رولز کے مطابق ایکٹنگ چارج کی معیاد 6ماہ ہوتی ہے جب کہ 2001سے افسران کی آسامیاں بھی خالی ہیں اس کے باوجود ان افسران کو کسی قسم کی ترقی نہیں دی گئی اور ان افسران سمیت درخواست گذار کی مسلسل 2001سے ترقی شدید متاثر ہوئی ہے ان کے بعد آنے والے افسران گریڈ 20تک ترقی پاچکے ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی اور ان کو ان کا آئینی حق نہیں دیا جس کے خلاف درخواست گذار نے سروس ٹریبونل میں درخواست دائر کی اور سروس ٹریبونل نے 21فروری2013کو درخواست گذار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو احکامات جاری کیے کہ درخواست گذار کو اس وقت سے ترقی دی جائے جس وقت سے یہ آفسران کی آسامیاں خالی تھیں لیکن اس فیصلے پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا سروس ٹریبونل نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے اور بار بار نوٹس کے باوجود جواب جمع نہ کرنے پر سیکر ٹری سٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کی تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے جب کہ 23 جون کو جواب طلب کر لیا ۔اس سلسلے میں سول سیکر ٹریٹ افسران نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ سالوں سے ملازمت کرہے ہیں 2001سے آسامیاں موجود ہونے کے باوجود انہیں ترقی نہیں دی گئی جب کہ ان کے بعد آنے والے افسران ترقی پا کر گریڈ 20تک پہنچ چکے ہیں اور وہ ابھی تک صرف گریڈ 18میں کام کرہے ہیں ان کی ترقی کا عمل 2001سے روکا اور بری طرح متاثر ہو ا ہے ۔

samplePrevious | Main Why it's advance Australia fair for 2022 Post categories: Football Matt Slater | 17:04 UK time, Wednesday, 29 September 2010 White smoke was spotted over Wembley on Tuesday as David Dein, the international president of England's World Cup bid, confirmed the nation was about to pull out of the race to stage the competition in 2022 and focus its efforts on winning the vote to host the 2018 edition. In related news, the BBC understands the Vatican City is set to make a statement about the Pope's religious leanings and the International Association for Bear Research and Management is on the verge of discovering what bears do in the woods. Please do not think I am ungrateful to Dein for clearing up this matter of almost no debate, on the contrary. With England out of the picture for 2022, we can now look dispassionately at what I think is the more interesting of Fifa's two World Cup choices. On a personal level, I care more about the result of the likely England v Russia v Spain/Portugal tussle for Europe's turn in 2018. But on a professional level, I am intrigued about the challenge world football's governing body has set itself when it makes its 2022 decision in Zurich on 2 December. By deciding to choose two World Cups in one.

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement