A+ R A-
23 اپریل 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

بزنس

بزنس (6)

اہور(سعید چودھری )ماضی کے دو ادوار میں رجوعہ ضلع چنیوٹ میں قیمتی معدنیات نکالنے کے ٹھیکہ میں اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی منظوری کے لئے انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سمری وزیراعلی ٰ ہاﺅس بھجوا دی۔باوثوق ذرائع کے مطابق سمری میں کہا گیا ہے کہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مذکورہ ٹھیکہ کی کرپشن کے معاملہ پر کارروائی کی مجاز ہے ۔تفصیلات کے مطابق 2007میں اس وقت کی پنجاب حکومت نے ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ نامی ایک کمپنی کے ساتھ رجوعہ ضلع چنیوٹ میں اربوں روپے مالیت کی معدنیات نکالنے کے لئے باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے اور بعدازاں 2008کی نگران حکومت کے دور میں اس کمپنی کے ساتھ ٹھیکہ کی منظوری دی گئی ۔جس کے تحت ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نے یہ معدنیات نکالنی تھیں اور اسے صاف کرنے کے لئے مل بھی لگانا تھی جس کی تکمیل پر معدنیات کے اس ذخیرے کے 75فیصد حصص ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو منتقل ہوجاتے اور پنجاب معدنیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے حصے میں 25فیصد حصص اور رائلٹی کے حقوق آتے ۔ذرائع کے مطابق یہ ٹھیکہ بغیر کسی اشتہار کے انتہائی جلد بازی میں دیا گیا ،اس حوالے سے متعلقہ افراد پر اربوں روپے کی خوربرد کی کوشش کا الزام ہے ۔2010میں وزیر اعلی ٰ شہباز شریف کی حکومت نے یہ ٹھیکہ منسوخ کردیا جسے مذکورہ کمپنی کے مالک ارشد وحید نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ۔ہائی کورٹ نہ صرف ٹھیکہ کی منسوخی کو جائز قرار دیا بلکہ اس ڈیل میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کے لئے معاملہ نیب کو بھی ریفر کردیا ۔سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم نیب نے یہ قرار دے کر معاملہ داخل دفتر کردیا کہ "کرپشن "کے اس کیس میں رقم کی ریکوری کا معاملہ نہیں ہے اس لئے نیب کو کارروائی کا اختیار نہیں ۔بعدازاں یہ معاملہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے سپردکردیا گیا ،جس نے انکوائری مکمل کرکے اندراج مقدمہ کی منظوری کے لئے سمری وزیر اعلیٰ ہاﺅس بھجوا دی ہے ۔ذرائع کے مطابق 2007-2008ءکی حکومتوں کے مرکزی عہدیداروں کے علاوہ اس وقت کے سیکرٹری معدنیات اور وزیر معدنیات کو بھی مذکورہ غیر قانونی ٹھیکے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔یادرہے کہ اس وقت کے وزیر معدنیات اب پاکستان تحریک انصاف کے میانوالی سے ممبر پنجاب اسمبلی ہیں ۔

امر تسر: پاکستان میں آلو کی قلت پوری کرنے کے لیے روزانہ 2 ہزار ٹن آلو پاکستان بر آمد کیا جاتا ہے۔

 

بھارتی نیوز ایجنسی ڈی این اے کی رپورٹ کے مطابق امر تسر سے تعلق رکھنے والے کاشتکاروں نے بتایا ہے کہ پاکستان کے کئی شہروں میں اس وقت آلو کی انتہائی قلت پائی جاتی ہے جس کے باعث اٹاری واہگہ کے ذریعے پاکستان کو روزانہ کی بنیاد  پر 15 سو سے 2000 ٹن آلو بر آمد کیے جا رہے ہیں جس کے لیے پاکستانی حکومت نے ڈیوٹی کی چھوٹ دے رکھی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ 70 سے 80 ٹرک روزانہ پاکستان بھیجے جاتے ہیں، بھارتی آلو برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رواں سال آلوؤں کی انتہائی قلت ہے اور ژالہ باری اور سخت ٹھنڈ  کے باعث آلوؤں کی فصل  سردیوں میں مکمل تباہ ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ایک سال کے وقفے کے بعد آلو کی بر آمد کا آرڈر دیا گیا۔ بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں آلو کی قیمت 25 سے 30 روپے ہے جبکہ پاکستان میں یہ 100 روپے سے زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے۔

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی طرف سے عائد کردہ ایک فیصد اضافی ٹیکس اور دو فیصد مزید ٹیکس کی مد میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔

 

اس ضمن میں ’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کروڑ روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث 28 کمپنیوں کا سُراغ لگالیا ہے جبکہ باقی ٹیکس چوروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ ایف بی آر کے سینئر افسر کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2013-14 میں صرف اپریل تا مئی کے دوران اضافی ٹیکس اور مزید ٹیکس کی مد میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری ہوئی ہے اور ایف بی آر کا ڈائریکٹوریٹ انٹرنل آڈٹ ان ٹیکس چوروں کا سُراغ لگارہا ہے۔

مذکورہ افسر نے بتایا کہ صرف لاہور کے ایک حصے کے ٹیکس دہندگان کے ٹیکس آڈٹ کے دوران ساڑھے چار کروڑ روپے سے زیادہ کی ٹیکس چوری پکڑی گئی ہے تاہم اس حوالے سے ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے گزشتہ مالی سال میں فنانس ایکٹ 2013 کے ذریعے اضافی ٹیکس اور دو فیصد مزید ٹیکس عائد کیا تھا جبکہ یہ انکشاف ہوا ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ انٹرنل آڈٹ کی طرف سے ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کے دوران بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری سامنے آئی ہے۔

دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال2013-14 میں صرف اپریل تا مئی کے دوران دو فیصد اضافی ٹیکس کی مد میں پانچ کروڑ37 لاکھ 53ہزار846 روپے کی ٹیکس چوری ہوئی ہے جبکہ چار کروڑ 88لاکھ 79ہزار23روپے کی اضافی ٹیکس کی چوری ہوئی ہے۔

دستاویز کے مطابق ایڈوانس ٹیکس چوری میں ملوث کمپنیوں میں سے میسز ایف ایم سی یونائیٹڈ پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کی طرف سے دوکروڑ74 لاکھ 76ہزار539 روپے،میسز ڈیسکون کیمیکلز لاہور کی طرف سے ایک کروڑ79 لاکھ 24ہزار619 روپے، میسز فارس کمبائن مارکیٹنگ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کی طرف سے 63 لاکھ 98ہزار760 روپے،میسز برجر پینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے سات لاکھ ہزار 52 روپے، میسز سُپریم پائوڈر کوٹنگز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہورکی طرف سے تین لاکھ 4ہزار142روپے، میسز ماسٹر پینٹ انڈسٹریز لاہورکی طرف سے دو لاکھ 82ہزار 125روپے،میسز رائل پینٹ انڈسٹریز لاہورکی طرف سے ایک لاکھ 82ہزار 410روپے،میسز برائیٹو مینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ لاہورکی طرف سے ایک لاکھ53 ہزار962روپے، میسز رفیق پولیمر لاہور کی طرف سے ایک لاکھ23 ہزار668روپے، میسز آمنہ کیمیکلز لاہور کی طرف سے55 ہزار651روپے،میسز اے اینڈ ایس انڈسٹریز لاہورکی طرف سے 43 ہزار301روپے،میسز ریپیڈ ایمپکس کارپوریشن لاہور کی طرف سے 37 ہزارسات روپے اور میسز ڈروک پینٹس کی طرف سے 13 ہزار937روپے کی ٹیکس چوری کی گئی ہے۔

جبکہ ایک فیصد مزید ٹیکس چوری کرنے والوں میں سے میسز ایف ایم سی یونائیٹڈ پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کی طرف سے ایک کروڑ 50لاکھ 98 ہزار 657 روپے، میسز ایکزو نوبل پاکستان لمیٹڈ لاہور کی طرف سے ایک کروڑ13 لاکھ97 ہزار681روپے،میسز کانسائی پینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے 86 لاکھ57 ہزار8روپے،میسز برجر پینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے 75لاکھ 55 ہزار 925روپے،میسز ماسٹر پینٹ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کی طرف سے 32 لاکھ 33ہزار467روپے،میسز برائیٹو پینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کی طرف سے 23 لاکھ 17ہزار153روپے،میسز اتحاد کیمیکلز لمیٹڈ لاہور کی طرف سے دو لاکھ 89ہزار413روپے،میسز منصور پینٹ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کی طرف سے ایک لاکھ 16 ہزار 681روپے،میسزچیمپیئن پینٹ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کی طرف سے 57 ہزار 548 روپے، میسز فارس کمبائن مارکیٹنگ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور کی طرف سے 40 ہزار 234روپے جبکہ میسز سٹا پینٹ انڈسٹری پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے 38 ہزار646روپے کی ٹیکس چوری کی گئی ہیں۔

اسلام آباد: فیڈل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں موبائل فون سیٹ کی درآمد پر 150 سے 500روپے سیلز ٹیکس کے علاوہ موبائل ٹیلی فون کی رجسٹریشن کے موقع پرانٹرنیشنل موبائل ایکویپمنٹ شناخت نمبر(آئی ایم ای آئی) پر بھی ڈھائی سو روپے سیلز ٹیکس عائد کردیا ہے۔

 

 

جبکہ سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ٹیلی کمیونی کیشن سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کے بجائے وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور بلوچستان میں ٹیلی کمیونی کشن سروسز پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح19.5فیصد سے کم کرکے 18.5فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

 

ایف بی آرکے سینئر افسر نے بتایا کہ موبائل فون سیٹ کی درآمد اور آئی ایم ای نمبر پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کو فنانس بل کے ذریعے قانونی تحفظ دینے کیلیے نویں شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ بھی تجویز ہے کہ جو سیلولر موبائل فون آپریٹرز اپنے سسٹم میں آئی ایم ای آئی نمبر رجسٹر کریں گے وہ آئی ایم ای آئی رجسٹریشن پر 150سے 250 روپے سیلز ٹیکس وصول کریں گے تاہم کسی کوان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ نہیں دی جائیگی۔

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال2014-15 کے بجٹ میں سبزی، دال، زندہ جانور، سی این جی بس، ایل پی جی بس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت200سے زائد اشیا کی درآمد پر ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کی ہے۔

 

 

اس ضمن میں پاکستان کسٹمز ٹیرف میں ترامیم کردی گئی ہیں جس سے قدرتی گیس، سبزیوں اور پٹرولیم مصنوعات سمیت 200 سے زائد اشیا مہنگی ہوجائیں گی۔

 

ایک سینئر افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ جن 200سے زائد اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے ان میں گائے، بھینس، بکرے، بھیڑیں، دنبے اور دیگر زندہ جانور، بغیر ہڈی کا گوشت، بکرے کا گوشت، کھمبیاں، مچھلی کے انڈے، تازہ اور فرٹیلائزر پر مشتمل کیمیکلز، پوٹاشیم سلفیٹ، یوریا، پرنٹنگ گم، پگمنٹ تھکنر، ووڈ فلور،جیوٹ ویسٹ، اسٹین لیس اسٹیل، ٹینڈ آئرن اور اسٹیل اسکریپ، لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، نوٹ بکس، ملٹی میڈیا کٹس، مائیکرو کمپیوٹر، پرسنل کمپیوٹر، کی بورڈز، ماؤس اور دیگر پوائنٹنگ ڈیوائسز، اسکینرز، فلاپی ڈسک ڈرائیوز، ہارڈ ڈسک ڈرائیوز، ٹیپ ڈرائیوز، سی ڈی روم ڈرائیو، ڈیجیٹل وڈیو ڈسک ڈرائیو، ریمووایبل اینڈ ایکسچینج ایبل ڈسک ڈرائیوز، کنٹرول یونٹ، کمپیوٹر کیسنگز، موڈیم، انرجی سیونگ لیمپ، انرجی سیونگ ٹیوب، سی این جی بسوں اور ایل پی جی بسوں، ڈریگرز اور نیٹ ورکنگ ایکوپمنٹ سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔

 

بجٹ میں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کے بجائے وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری اور بلوچستان میں ٹیلی کمیونیکشن سروسز پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح ساڑھے19 فیصد سے کم کرکے ساڑھے 18فیصد کرنے کی تجویزدی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئندہ مالی سال 2014-15 کے وفاقی بجٹ میں او جی ڈی سی ایل کو پاور جنریشن کمپنیوں کوگیس کی فروخت پر300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس عائد کرنے کی تجویز دیدی ہے۔

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2014-15کے بجٹ میں عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے مختلف شعبوں کے ذریعے دی جانے والی زراعانت (سبسڈی) میں 37 ارب روپے کمی کردی ہے۔

 

بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2013-14کے لیے سبسڈی کا ہدف 240ارب 43کروڑ روپے مقرر کیا گیا تاہم عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کے لیے واپڈا، کیپکو اور کے الیکٹرک (سابق کے ای ایس سی) کے ذریعے سبسڈی میں غیرمعمولی اضافے کے سبب 2013-14 میں سبسڈی کی مالیت 323ارب روپے تک پہنچ گئی، حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے سبسڈی کا ہدف گزشتہ سال کے ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں37 ارب روپے کم کرکے 203 ارب 24کروڑ روپے مقرر کیا ہے جو جی ڈی پی کے 0.7فیصد کے برابر ہے

۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران حکومت بجلی پر 185ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے گی، مالی سال 2013-14کے دوران بجلی پر 309.4ارب روپے کی سبسڈی دی گئی جبکہ بجٹ میں220ارب رکھے گئے تھے، آئندہ مالی سال واپڈا اور پیپکو کے ذریعے 156.10ارب روپے اور کے الیکٹرک کے ذریعے 29ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی، سال 2013-14 کے لیے کے الیکٹرک کے ذریعے سبسڈی کا ابتدائی تخمینہ 55ارب روپے لگایا گیا تھا تاہم 64.31ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، اسی طرح واپڈ اور کیپکو کے لیے ابتدائی تخمینہ 165ارب روپے تھا جو سال 2013-14کے دوران بڑھ کر 245.10 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

 

حکومت نے رمضان پیکیج اور سستی چینی کی فراہمی کے لیے سبسڈی کی مالیت 1 ارب روپے کے اضافے سے 7ارب روپے مقرر کی ہے جس میں سے 3 ارب روپے رمضان پیکیج اور 4ارب روپے سستی چینی کی فراہمی کے لیے شوگر ملز کو دی جائیں گے، سال 2013-14کے دوران رمضان پیکیج پر2 ارب روپے اور سستی چینی پر 4ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، عوام کو سستی گندم کی فراہمی کیلیے سبسڈی کی مالیت 1ارب روپے کمی سے 8ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔

 

یہ سبسڈی پاسکو کے ذریعے دی جائیگی، مالی سال 2013-14کے لیے سستی گندم کی فراہمی پر سبسڈی کا تخمینہ 9ارب روپے لگایا گیا جو 8ارب روپے تک محدود رہا، آئل ریفائنریز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے عوام کو 2ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی، فاٹا میں سستی گندم کیلیے 29کروڑ 30لاکھ روپے، گلگت بلتستان میں سستی گندم کیلیے 85کروڑ روپے جبکہ گلگت بلتستان میں ہی نمک پر 50 لاکھ روپے کی سبسڈی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement