A+ R A-
23 مارچ 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

تحریر : کمال عبد الجمیل

سولہ  برس قبل آج ہی کے دن پاکستان اقوام عالم میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ یہ مقام چاغی میں ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کے ساتویں اور امت مسلمہ کے پہلے ایٹمی طاقت بننے پر پاکستان کو حاصل ہوا۔ اسوقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جب قوم سے اپنے خطاب میں یہ اعلان کردیا کہ پاکستان کہ یکے بعد دیگرے سات ایٹمی دھماکے کرکے ہندوستان سے حساب چکتا کر لیا ہے تو پاکستان بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ شکرانے کے نوافل ادا کئے گئے، خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ ہر پاکستانی کے دل میں جوش اور ولولہ مزید تازہ ہوگیا ۔ امت مسلمہ کو بھی اپنے مد مقابل کے سامنے سر فخر کے ساتھ بلند کرنے کا موقع ہاتھ آیا۔
اس تاریخی دن کو " یوم تکبیر " کا نام دیکر ہر سال نہایت عقیدت اور جذبے کے ساتھ منایا جاتاہے۔ 28مئی 1998 ؁ء کوبلوچستان کے ضلعی چاغی کے پہاڑوں میں کئے گئے جوابی ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کے دشمن بھارت کے دانت کھٹے کرنے کے ساتھ ساتھ صیہونی ریاست اسرائیل کو بھی واضح پیغام پہنچایا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تاراج کرنے کے خواب دیکھنے والے دنیاکے نقشے سے مٹ جائینگے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے وہ بڑھتے ہوئے قدم جو پاکستان کی طرف گامزن تھے یکدم بیڑی بند ہوگئے۔ ہندوستان نے مئی 1998 ؁ء کے اوائل میں پوکھران میں ایٹمی دھماکے کرکے دھمال ڈالا تھا اور یکدم انکے لہجے میں ترشی اور جارحیت آگئی ۔ ہندوستانی وزراء پاکستان کو تہس نہس کرنے کے بیانات دینے لگے، ہندوستانی مسلح افواج کی حرکتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر بھی ہندوستانی جارحیت ایکدم تیز تر ہوگئی اور پاکستان کی سالمیت کو شدید خطرات واضح نظر آنے لگے تو مجبوراً پاکستان کو تمام بین الاقوامی دباؤ کو رد کرتے ہوئے اپنے ایٹمی صلاحیتوں کو واضح کرنا پڑا۔ امریکہ کے صدر بل کلنٹن آخر ی لمحے تک وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کی کوششیں کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے پاکستان ایٹمی قوت بن گیا اور نعرہ تکبیر کی صداؤں سے ایسا گونجا کہ ہندوستان کے پر لرزہ طاری ہو گیا۔ اسی وجہ سے اس دن کا نام بھی " یوم تکبیر"رکھا گیا۔ اس دن پر پورے پاکستانی قوم کو فخر ہے۔اس دن ملک بھر میں اس حوالے سے پروگرامات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور مساجد میں پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔
پاکستان نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی کوششوں کا آغاز 1974 میں بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد کیا اور پھر 28 مئی 1998 میں پاکستان نے بلوچستان میں چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے باقاعدہ طور پر ایک ایٹمی صلاحیت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے پاکستان کو عالمی پابندیوں کو سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان دنیا خود کو دنیا بھر میں ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر منوایا۔ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے ایٹمی صلاحیت میں مسلسل ترقی کی جو اس کے دشمنوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی اور پاکستان دشمن قوتیں اب بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

تحریر: کمال عبد الجمیل

معروف صحافی حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا جسمیں وہ زخمی ہو گئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حامد میر پر حملے کے فوراً بعد انکے بھائی عامر میر اور انکے ادارے جیو کی طرف سے ملک کے اہم ترین ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس پر براہ راست الزام لگایا گیا نہ صرف ادارے بلکہ اس اہم قومی ادارے کے سربراہ حاضر سروس تھری سٹار جنرل146146 ظہیرالاسلام 145145کا نام لیا گیا۔ یہ سب کچھ بھونچال سے ہر گز کم نہیں کیونکہ آئی ایس آئی ایک ایسا ادارہ ہے جس سے ہر محب وطن پاکستانی کو نہایت ہی جذباتی لگاؤ اور محبت ہے۔ یہ محبت اور عقیدت اور بھی زیادہ ہوتی ہے جب اس ادارے کے خلاف مختلف عالمی طاقتیں اور ادارے بات کرتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواہشمند عالمی طاقتوں کی اولین خواہش اور کوشش یہی ہے کہ اس ہم قومی ادارے کو بدنام کیا جائے اور عوام کو اس سے متنفر کیا جائے تاہم ایسے حالات میں اس ادارے سے لگاؤ رکھنے والے پاکستانیوں کی بھی کمی نہیں جو ایسے پراپیگنڈوں اور ایسے کوششوں کا مختلف فورم پر جواب دیتے رہتے ہیں۔
حامد میر بھی اس ملک کے شہری ہیں اور ایک اہم نشریاتی ادارے میں کلیدی پوزیشن پر فائز ہیں، انکی اہمیت ، انکی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انکے خلاف بھی مختلف محاذوں پر باتیں ہوتی رہی ہیں، ان پر مختلف الزامات لگتے رہے ہیں۔ آزادی اظہار رائے کو استعمال کرتے ہوئے میر صاحب کے مختلف خیالات اور پروگرامات کو نا پسند بھی کیا جاتا رہا ہے ، مجھے بذات خود میر صاحب کے کئی ایک پروگرامات اور مندرجات سے اختلاف رہا ہے بالخصوص انہوں نے ملالہ یوسفزئی کو جسطرح ہائی لائٹ کرنے کی کوشش کی جو آگے چل کر پاکستان کے لئے کلنک بن گئی۔ کسی زمانے میں اس ناچیز کی بھی میر صاحب کیساتھ کافی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب میر صاحب روزنامہ اوصاف کے ساتھ منسلک تھے اور یہ ناچیز بھی اسلام آباد کے ایک اخبار اور پشاور کے ایک ہفتے روزہ کے لئے رپورٹنگ کرتا تھا۔ ان ملاقاتوں میں ان سے کافی معلومات ملیں، نصیحتیں، راہنمائی اور مشورے بھی ملے۔ غرض انہوں نے کافی تعاون بھی کیا۔ پھر میر صاحب سے رابطے ختم ہو گئے اور کوشش بسیار کے باوجود میر صاحب سے ملنا ممکن نہ ہوا۔ تب جا کے پتہ چلا کہ میر صاحب بھی اس ملک میں 146146 اہم ترین145145 شخصیت بن گئے ہیں۔
مکرر یہ عرض کرتا ہوں کہ حامد میر صاحب بھی اس ملک کے ایسے ہی شہری ہیں جیسے جنرل ظہیرالاسلام صاحب ہیں ۔ہم دونوں کو اس ملک کا اثااتھ ہر لحاظ سے ہمدردی ہے مگر بغیر کسی تردد کے اس امر کا اقرار بھی ایمان کا حصہ سمجھتا ہوں کہ ملک کے اہم ترین ادارے اور ادارے کے سربراہ کیخلاف براہ راست الزام لگانا مناسب نہیں کیونکہ اسوجہ سے کئی اور مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ جیو نیوز کے انتظامیہ کو نہایت محتاط انداز اپنانا چاہئے تھا اور عدالتی کمیشن کے انکوائری اور اسکے رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے تھا ۔ اس سارے عمل میں ملک بھر کے صحافی ، اخبارات، سول سوسائٹی، سیاستدان یعنی سب انکے ساتھ کھڑے رہتے مگر ملک کے اہم ترین ادارے اور اسکے سربراہ پر ابتدائی الزام تراشی کے بعد مسلسل اس کے تکرار نے صحافتی اداروں اور تنظیمات کو بھی تقسیم کرکے رکھدیا ہے۔ گو کہ حامد میر صاحب پر حملے اور اس کے غیر جانبدارانہ انکوائری کے حوالے سے تمام مکتبہ فکر ایک ہی صفحے پر ہیں مگر آئی ایس آئی اور اسکے سربراہ کو اس میں ملوث کرنے اور کسی انکوائری سے قبل بار بار اس چیز کو ہائی لائٹ کرنے سے ایک نئے مسئلے نے جنم لیا ہے۔
میرے خیال میں اب آئی ایس آئی سمیت دیگر اہم قومی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سارے سازش کو بے نقاب کریں کہ کن لوگوں نے حامد میر پر حملہ کیا اور اسکے پیچھے کیا عوامل تھے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ اس سلسلے میں کسی سے بھی رعایت نہ برتی جائے۔

 

 

 

ونسٹن چرچل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ جدید مصوری کی ایک نمائش میں وزیر اعظم برطانیہ کے طورپر مدعو ہوا‘ ایک صحافی نے پوچھاکہ سر…کیا آپ کو اس جدید مصوری کی سمجھ آتی ہے تو اس نے کہاکہ میں زندگی میں ایک نتیجے پر پہنچا ہوں او وہ یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ آپ ہر چیز یا نظریئے کو سمجھ سکیں…تو میں بھی سمجھ نہیں سکا لیکن سمجھنا چاہتا ہوں کہ کیوں صرف ہم پاکستانی ہیں جو‘شمشیر و سناں اول‘ طاؤس و رباب آخر کے تاریخی مغالطے کے فریب بھی مبتلا ہیں کہ دنیا میں جتنی بھی عظیم اور شاندار تہذیبوں نے جنم لیا ان سب میں شمشیر وسناں اور طاؤس ورباب ساتھ ساتھ چلے…

چلئے ہم کفار اوربے دین لوگوں کی تہذیبوں‘ رومن‘ فراغنہ کے مصر‘ بابل‘ نینوا‘ یونان‘ چین یا ہندوستان کی بات نہیں کرتے مسلمانوں کی عظمت کے دنوں میں جھانکتے ہیں…میں بہرطور ایک ادیب ہوں‘ دانشور یا محقق نہیں ہوں…جن دنوں یعنی آج سے تقریباً چالیس برس پیشتر کا قصہ ہے میں اپنے سفرنامے’’ اندلس میں اجنبی‘‘ کے لئے تاریخی مواد کی جستجو میں تقریباً ایک برس ہر دوپہر سے شام تک پنجاب پبلک لائبریری کے تہہ خانے میں براجمان ہو کر قدیم مخطوطوں اور بوسیدہ کتابوں کی ورق گردانی کیا کرتا تھا اور میں نے اندلس کی تاریخ‘ ثقافت اور تمدن کے جو حوالے نقل کئے وہ تقریباً ایک ہزار صفحوں پرمحیط ہوگئے‘ تب میں نے سوچا کہ ایک سفرنامے کی بجائے میں کیوں نہ اندلس کے بارے میں ایک تحقیقی اور تاریخی دستاویز تحریر کروں کہ میرے پاس مواد کی کثرت تھی اور پھر اس ارادے سے اس لئے باز آیا کہ محقق ایک نہایت کٹھور دل ناک کی سیدھ میں صرف حقائق کے حوالے دینے والا شخص ہوتا ہے…

 

وہ مسجد قرطبہ کی تاریخ‘ مختلف ادوار میں اس میں رونما ہونیوالی تبدیلیاں اور سلطانوں کے نام تو درج کرسکتا ہے لیکن اس میں جذبات نام کو نہیں ہوتے اور میں ایک آوارہ گرد جذباتی اوررومانوی خصلت کا مالک شخص تھا‘ میں مسجد قرطبہ و شام کے صحراؤں میں اک ہجوم نخیل…جس طور مجھ پر وارد ہوئی‘ لبنانی لڑکی ناژلاسعد کے سنگ میں نے اسکی ہر محراب کواپنے پپوٹوں سے محسوس کیا اس کے’’ صحن غارنجتان‘‘ کی نارنگیوں کی زردکھٹی خوشبو سے وجد میں آیا…میں نے تو اسے ان جذبات سے مغلوب ہو کر بیان کرنا تھا…چنانچہ میں نے اندلس کے بارے میں ایک تحقیقی دستاویز مرتب کرنے سے اجتناب کیا…

 

آپ ذرا اس حقیقت کو پرکھئے کہ علامہ اقبال اگر جذباتی اور رومانوی نہ ہوتے‘ صرف ایک محقق ہوتے تو کیا وہ’’ مسجد قرطبہ‘‘ ایسی شاہکار نظم تخلیق کر سکتے … بہرطور اندلس کا عہد جسے مسلمانوں کا سب سے زریں زمانہ گردانا جاتاہے اس تحقیق کے دوران آشکار ہوا کہ وہاں طاؤس و رباب کی کیسی قدرومنزلت تھی…وہاں کے گلوکار اور موسیقار ایسے تھے کہ پسماندہ یورپ کے لوگ ان کی پیروی کرتے تھے اور اس درخشاں دور کا سب سے درخشاں شخص موسیقار زریاب تھا…یہ زریاب ایک استاد گلوکار اور موسیقار ابن اسحاق کا شاگرد تھا‘ بغداد کے عباسی خلیفہ کے دربارمیں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا تھا…

 

کہا جاتا ہے کہ ایک روز گلوکاری میں وہ ایسی بلندیوں پر
پہنچ گیا کہ ابن اسحاق کو ماند کر دیا…تب زریاب کو اپنی جان کی فکر مندی ہوئی کہ کہیں میرا استاد طیش میں آکر مجھے قتل نہ کروا دے کہ ان زمانوں میں بھی یہی دستور تھا…زریاب اپنے چند ساتھیوں سمیت بغداد سے روپوش ہوا اور قرطبہ میں جاظاہر ہوا… قرطبہ کے سلطان کو اس کی آمد کی خبر ملی تو وہ اس کے استقبال کیلئے اپنے شاہی قصر سے باہر آگیا…زریاب سے کہا کہ جب تک آپ کے شایان شان رہائش کا بندوبست نہیں ہوتا آپ میرے محل میں قیام کرینگے اور میں اس دوران کہیں اور منتقل ہو جاؤں گا‘ زریاب نے قرطبہ کی زندگی میں ایک انقلاب برپا کر دیا…وہ محض موسیقار نہ تھا…

 

وہ پہلا شخص تھا جس نے چمڑے کا پوش ایجاد کیا کہ خوراک کو ننگی میز پر کھانا ذوق جمال کے منافی ہے…یورپ بھر کے حکمران ان زمانوں میں نہایت بدذوقی سے لکڑی کی میزوں پر دھری کچی پکی بکرے کی رانیں نگلا کرتے تھے اور حیرت درحیرت‘ کھانے کے دوران چھری کانٹے کا استعمال اس نے رائج کیا جسے ہم آج انگریزوں کی اختراع سمجھ بیٹھے ہیں اور انگلیاں چاٹنے کو ثواب گردانتے ہیں…زریاب ایک ڈریس ڈایزائنر بھی تھا…اس کے اختراع کردہ ملبوسات ماڈل زیب تن کر کے’’ کیٹ واک‘‘ کرتے… موسم سرما‘ گرما اور خزاں کے لباس وہ ڈیزائن کرتا اور انکی پیروی پورا یورپ کرتا جو ابھی تک جانوروں کی کھالوں میں ملبوس تھا۔ہم مسلمانوں کو دوخطے زیر کرنے کے بعد کچھ نفسیاتی مسائل نے آلیا‘ ایک ایران کی قدیم اور شاندار تہذیب تھی اور پھر ہندوستان کی ہزاروں برس پرانی عملی‘ ادبی اور روحانی ثقافت تھی…

 

ایران کا تذکرہ پھر کبھی سہی لیکن ہندوستان میں ہم نے اپنے آپ کو مکمل طورپر جدا کرنے کی خاطر ہر اس شے کو حرام قرار دے دیا جو یہاں کے باشندوںکی ثقافتی پہچان تھی اور اس میں شادی بیاہ اور موت کی رسوم‘ موسیقی اوررقص وغیرہ سرفہرست تھے…دنیا بھر میں جتنے بھی مسلمان خطے تھے وہاں موسیقی اور رقص کو کچھ پرابلم نہ تھی‘ صرف ہمارے ہاں تھی اور اب بھی ہے…لیکن ہم ان سے پیچھا نہ چھڑا سکے…برصغیر کے عظیم ترین کلاسیکی گلوکار سازندے اورموسیقار مسلمان تھے اور ہیں…البتہ ہم نے ایک اہتمام کیا۔

 

ہم نے قوالی کی صورت میں موسیقی کو متشرع کرلیا اور چونکہ بت پرستی ہماری سرشت میں تھی‘ ہم اس پر لعنت بھیجتے تھے لیکن ہم نے بتوں کی بجائے قبروں کو پوجنا شروع کر دیا…ان کی پرستش شروع کر دی… میری ساس صاحبہ…زینت بیگم…جن کے خاوند چوہدری عبدالرحمن شیرانوالا کے صوفی بزرگ مولانا احمد علی کے خلیفہ تھے جب کبھی مجھے اور اپنی بیٹی میمونہ کو ملنے کیلئے آتیں توہمیشہ شکایت کرتیں…اور وہ ہمیشہ ایک صوفیانہ صاف ستھرے لباس میں‘ دل نشیں ناک نقشے والی گڑیا سی بڑھیا ساس شکایت کرتیں کہ…مستنصر تمہارے گھرمیں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں میں نماز پڑھ سکوں…

 

ہر دیوار پر تصویریں ہیں اور مجسمے سجے ہیں‘ تو میں ان سے لاڈ کرتا ہوا کہتا‘ امی جی اگر آپ یہاں سجدے میں جاتی ہیں تو کیا مہاتمابدھ کا یہ قدیم گندھارا مجسمہ آپ سے شکایت کرتاہے کہ آپ ادھر کیوں سجدہ کرتی ہو…مجھے کیوں نہیں کرتیں…یقین کیجئے کہ جب کبھی میں نماز پڑھتا ہوں تو یہ مجسمہ مجھے کچھ نہیں کہتا…یہ میرے لئے محض ایک پتھر ہے…تو بجا طور پر وہ مجھ سے عارضی طورپر خفا ہو جاتیں۔
تو کیا ابھی تک ہماری آستینوں میں بت ہیں اور ہم حجالت اورشرمندگی میں طاؤس ورباب کو حرام قرار دیئے جاتے ہیں

 

 

 

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement